الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سندھ کے آٹھ اضلاع میں 19 نومبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو منسوخ کر دیے ہیں اور یہ انتخابات 15 دن کے بعد منعقد کروائے جائیں گے۔
منگل کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سیکریٹری بابر یعقوب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ سندھ بھر میں 80 سے زیادہ یونین کونسلوں میں انتخابات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
سندھ میں بلدیاتی انتخابات، 707 امیدوار بلامقابلہ کامیاب
یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے بعض علاقوں میں نئی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔ ان اضلاع میں انتخابات ملتوی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود مختار ادارہ ہے اور اس معاملے میں وہ حالات کا جائزہ لے کر فیصلے کرے۔
سندھ کے جن اضلاع میں انتخابات ملتوی ہوئے ہیں اُن میں حیدر آباد، بدین، تھر پار کر، ٹنڈو اللہ یار، میر پور خاص، بےنظیر آباد، نوشہرو فیروز اور جام شورو شامل ہیں۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ میرپور خاص کی 25 یونین کونسل، حیدر آباد کی 24 یونین کونسل اور شہید بےنظیر آباد کی 27 یونین کونسل میں انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں جبکہ سانگھڑ کی پانچ یونین کونسلوں میں سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اس ضمن میں سندھ حکومت کو احکامات جاری کر دیے ہیں اور جن علاقوں میں الیکشن منسوخ ہوئے ہیں وہاں 15 دونوں میں دوبارہ انتظامات مکمل کر کے انتخابات کروائے جائیں گے۔
اس فیصلے کے بعد سندھ بھر میں پانچ میونسپل کارپوریشنوں، 18 ٹاؤن کونسلوں اور 53 یونین کونسلوں میں انتخاب نہیں ہو گے۔