ہمارا پیارا وطن پاکستان کہنے کو ایک ترقی پسند، ترقی پذیر اور پھولتا پھلتا ہوا ملک ہے، مگر حقیقی معنوں میں ایسا کہیں نظر نہیں آتا۔ ہمیں اپنے وطن کی مٹی سے بے پناہ محبت ہے لیکن بہت سی وجوہات کی وجہ سے قوم اس وقت انتشار اور تنزلی کا شکار ہے۔ اس میں قصور ہماری لیڈر شپ کا ہے یا ہم بحثیت قوم زوال کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہماری معاشی حالات خراب ہے اور معاشرہ بگاڑ کا شکار ہے۔ ایسی حالت میں دعا کے ساتھ ساتھ تدبر، مستقل مزاجی اور بہترین منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔ جس طرح وطن عزیز میں خوشیوں کے لمحے مفقود ہوتے جا رہے ہیں اور اب ہمارے پاس ہنسنے مسکرانے کے لئے بھی کچھ نہیں رہا، بالکل اسی طرح ہم اپنی کئی زندگی بخش روایات بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ ان خوبصورت روایات میں ایک روایت عید کارڈ کی بھی ہوتی تھی۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں نئے کپڑوں، جوتوں اور گھروں کی سجاوٹ کے ساتھ ساتھ ہم لوگ عید کارڈ بھی خریدتے تھے اور بذریعہ ڈاک اپنے دوستوں، عزیزوں اور رشتہ داروں کو خوبصورت لفظوں سے پیغام لکھ کر بھیجا کرتے تھے اور دوسری جانب سے محبتیں وصول بھی کرتے تھے۔ لیکن جدید دنیا جہاں شٹاپو، آنکھ مچولی، لڈو وغیرہ کھا گئی اسی طرح عید کارڈ کی رسم بھی تمام ہوئی۔ تاہم اس دم توڑتی روایت کو زندہ کرنے میں ہمارے معروف سینئر شاعر اور مجلہ سائبان س سائبان تحریک کے روح رواں جناب حسین مجروح نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔ انہوں نے شعراء و ادباء کو عید کارڈ بھیج کر ہمیں بھی دعوت فکر دی ہے کہ سب دوست خاص طور پر ادیب برادری اس رسم کو پھر سے شروع کریں۔ وہ یادوں کی الماری کے پٹ کھول کر دکھ بھرے لہجے میں لکھتے ہیں ،،کیا زمانہ تھا(اور زیادہ پرانی بات نہیں) یہی دو عشرے پہلے تک۔ رمضان المبارک کے دوسرے ہفتے میں نئے کپڑوں کے ساتھ ساتھ، دوسرے شہروں ملکوں میں مقیم اپنے پیاروں کو عید کارڈ بھیجنے کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا۔ گلی، محلے، دُکانوں میں رنگا رنگ قسم کے عید کارڈ دکانوں تھڑوں کی زینت بن جاتے اور کیا بچےّ کیا بڑے کیا لڑکیاں، کیا خواتین اپنے اپنے ذوق اور پسند کے کارڈ منتخب کرتے اور ان پر اپنی من پسند تہنیت رقم کرتے، بیسویں روزے تک سپرد ڈاک کر دیتے تاکہ مخاطب و مطلوب تک عید سے پہلے پہنچ جائیں،،
ان کی اس تحریک کا حصہ بنتے ہوئے جناب اورنگ زیب نیازی لکھتے ہیں ،،گذشتہ پچیس سالوں میں کتنی ہی قدریں معدوم ہو گئیں۔ عید کے دن قریب آتے تو ایک انتظار آنکھوں میں ٹھہر جاتا تھا۔ ایک معصوم اور موہوم سی خواہش مچلنے لگتی تھی کہ شاید میرے نام کی چٹھی آئی ہو۔ ڈاکیا کسی پیارے دوست، رشتہ دار کا عید کارڈ لے کر آتا تو اس لمحے کی خوشی دیدنی ہوتی۔ پرانے کاغذوں سے آج بھی دوستوں کے خط اور عید کارڈ نکل آتے ہیں،،
جناب عابد کمالوی نے بھی اپنے کالم بعنوان ، بچپن کا رمضان، عید کارڈ اور۔۔۔۔ میں انہی یادوں کو سپرد قلم کیا ہے۔ اب نہ وہ بچےّ ہیں نہ وہ بچپن ہے جو ہم نے گذارا تھا۔ مجھے ان سب باتوں نے تیس برس پیچھے جا کھڑا کیا، جب نوکری کے سلسلے میں میری پوسٹنگ پشاور ہوئی اور میں وقتی طور پر نوکری چھوڑ کر لاہور آگیا۔یہاں ایک زبردست جنرل سٹور کھولا اور اپنی اہلیہ کے ساتھ جا کر شاہ عالم مارکیٹ سے خوش نما رنگوں کے ڈھیروں عید کارڈ خرید کر لایا اور دوکان کے آگے سجا دئیے۔ یہ شوق کے ساتھ کاروبار بھی تھا۔یوں اب روایت کے ساتھ اس کاروبار سے وابستہ افراد کا بھی نقصان ہوا ہے۔ میں حسین مجروح صاحب کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوں کہ انھوں نے ہماری توجہ مٹتی ہوئی روایات کی طرف دلائی اور آج بہت سی پوسٹوں اور کالموں کے علاوہ میرا بھی ایک معصوم سا کالم سائبان تحریک کا حصہ بن رہا ہے۔ آخر میں بیس برس پرانی میری نظم، عید کارڈ ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کہ عید کارڈ کس طرح ہمارے لئے باعث مسرت و اطمینان بنا کرتے تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔عید کارڈ۔۔۔۔
محبتوں کی علامت
روائیتوں کا سفر
گزشتہ سال کی گل رنگ
چاہتوں کا سفر
کسی کے ہونے کی
خوش رنگ داستاں بن کر
محبتوں کے زمانے کی
داستاں بن کر
نہ جانے کتنے دلوں کو سکون دیتا ہے
مجھے بھی شام وسحر
انتظار رہتا ہے
کہیں سے کوئی سندیسہ
بہار کا آئے
تمھارے نام کی خوشبو
بکھیرتا جائے
ہماری روح میں
اک روشنی بکھر جائے
ہماری فکر میں
اک تازگی اتر جائے
یہ عید کارڈ محبت میں
رنگ بھرتے ہیں
یہ عید کارڈ نہ ہو
تو کوئی خوشی نہ ملے
ہلال عید نہ چمکے
کسی کی عید نہ ہو
دلوں میں پیار نہ اترے
تو شوق دید نہ ہو
محبتیں نہ اگر ہوں
تو یہ نوید نہ ہو۔۔۔۔۔