کمالیہ (ایڈیٹر نئی آواز ۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ) 23 مارچ پاکستان کے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ عظیم الشان یادگار کی تعمیر میں پاکستان کو بقائے دوام عطاء کیا۔ بلاشبہ یوم پاکستان اسلامی واحدت اور دو قومی نظریے کے تحفظ اور تجدید عہد کا دن ہے۔ بادشاہی مسجد کے بلمقابل یہ فلک باس مینار حصول وطن کے لیے انتھک جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کا جمہوری مطالبہ کرنے کے لیے متحد ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان خیالات کا اظہار صدر چوہدری آرٹس سوسائٹی اینڈ کلچرل ونگ کے صدر ایم افضل چوہدری نے یوم پاکستان کی 85 ویں سالگرہ کی تقریب کے موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعہ پر سوسائٹی کے دیگر عہدیداروں جنرل سیکرٹری عثمان سیالوی جوانںٔٹ سیکرٹری رانا محسن علی خاں اور مہمان خصوصی طارق محمود رانا چیئرمین انٹرنیشنل راجپوت اتحاد نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ آج کے دن حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے مدبرانہ خطاب میں کہا تھا کہ قومیت کی جو بھی تعریف کی جائے مسلمان اس تعریف کی رو سے ایک الگ قوم ہیں لہٰذا یہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ ان کی ایک الگ مملکت ہو جہاں وہ اپنے عقائد کے مطابق معاشی سماجی اور سیاسی زندگی بسر کر سکیں۔ ہندو اور مسلمان ہر اعتبار سے مختلف ہیں ہم اپنے مذہب تہزیب و ثقافت تاریخ زبان طرزِ تعمیر اصول و قوانین معاشرت لباس یہ ہر اعتبار سے مختلف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو قومی نظریے کے اس اقدار و شگاف توضیح کے تناظر میں یہ کہنا بالکل مناسب ہے کہ علامہ اقبال کے خواب سے لیکر قاںٔد اعظم کی قیادت میں اس خواب کی تعبیر تک واضح ہے کہ 23 مارچ کا دن دو قومی نظریے کی وجہ سے طلوع ہوا۔ اور قرارداد پاکستان کے ظہور کا سبب بھی دو قومی نظریہ تھا اور دو قومی نظریہ کلمہ حق کے سوا کچھ نہیں ہے۔