غریب عوام طبی سہولیت سے محروم، سرکاری ہسپتال میں ایمرجنسی میں میڈیسن مبینہ طور پر نایاب، ڈاکٹر صاحبان پرچی پر میڈیسن لکھ دیتے ہیں اور وہ بھی مخصوص میڈیکل سٹوروں سے ملتی ہے۔
مبینہ طور پر ہسپتال کے مین گیٹ کے پاس میڈیکل کیئر فارمیسی اور میڈیکل سٹور قائم ہیں جہاں سے ڈاکٹروں اور سٹاف کو موٹا مال وصول ہوتا ہے
کامونکی (محمد اخلاق اُپل سے) کامونکی میں تقریباً 7 لاکھ کی آبادی ہے جس میں ایک سول ہسپتال قائم جس میں لوگ دور دیہاتوں سے آ کر ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کے ویژن کو ہوا میں اُڑا دیا۔ غریب عوام کے ریلیف پیکج کو پھینک ڈالا کچرے کے ڈھیر پر۔ ایم ایس ڈاکٹر سعد احمد خاں خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف عمل ہیں۔ نااہل نالائق بد اخلاق کام چور سول ہسپتال کامونکی لیڈی ڈاکٹرز نے اختیارات طاقت تکبر غرور کے نشہ میں بدمست ہو کر قوائد ضوابط اور اخلاقی اقدار کو پاؤں تلے روند کر حاملہ خواتین کی تزلیل کرنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ کامونکی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں حاملہ خواتین سے ناروا سلوک نرسز اور صفائی کرنے والی آیا مبینہ طور پر لیڈی ڈاکٹر گائناکالوجسٹ کے فرائض سرانجام دینے لگی۔ ٹی ایچ کیو ہسپتال کامونکی میں آنے والی تمام میڈیسن مبینہ طور پر ڈاکٹروں اور سٹاف کے عملے میں بانٹ لی جاتی ہے۔ اور کچھ میڈیسن رشتے داروں دوستو سفارشوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ اگر پھر بھی میڈیسن بچ جائے تو غریب عوام کو نہیں دی جاتی۔ اس کے ایکسپائر ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ اور جب میڈیسن ایکسپائر ہو جاتی ہے تو باسکٹ میں پھینک دی جاتی ہے۔ تحصیل کامونکی کے غریب عوام کے حصےّ میں تو سر درد کی ایک گولی تک نہیں آتی۔ غریب عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر کمپنیوں کی میڈیسن فروخت کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ میڈیکل ریپ ٹی ایچ کیو ہسپتال کامونکی کے ڈاکٹروں کو بڑی بڑی آفرز دیتے ہیں۔ مبینہ طور پر ان کے گھروں میں اے سی لگواتے ہیں ان کے پرائیویٹ ہسپتالوں کے لیے بیڈز، فرجیں، دیگر ممالک کے سیروتفریح کے ویزے اور جو سامان یہ منہّ سے نکالیں لا کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کو گاڑیاں تک میڈیکل کمپنیاں لے کر دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے سول ہسپتال کامونکی کے ڈاکٹر مریضوں سے زیادہ میڈیکل رپیز کو ٹائم دیتے ہیں۔ ان میڈیکل ریپز کی میڈیسن باہر میڈیکل سٹوروں پر رکھوائی جاتی ہے اور ٹی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کام مریضوں کو چیک کرنا اور میڈیسن کی پرچیاں مریضوں کے ہاتھوں میں دے کر باہر اپنے مخصوص میڈیکل سٹوروں کا ایڈریس دینا معمول بن چکا ہے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کامونکی کے عوام کی وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سے اپیل ہے کہ ان میڈیکل ریپز کو سرکاری ہسپتالوں میں جانے پر پابندی لگائی جائے اور ٹی ایچ کیو ہسپتال میں سرکاری میڈیسن ڈاکٹروں کے پرائیویٹ ہسپتالوں کی بجائے غریب عوام تک پہنچے ایسے اقدامات کیے جائیں۔