اردو اور پنجابی کے معروف شاعر آسی بھوج پوری گجرات پاکستان کے گاوں بھوج پور میں 25 ستمبر 1973 کو پیدا ہوئے ۔آسی بھوج پوری کا اصل نام محمد اشرف ہے ۔آپ کے والد محترم کا نام غلام محمد ہے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول بھوج پور سے حاصل کی ۔ 1991 میں گورنمنٹ ہائی سکول ہزارہ مغلاں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔پھر ایف اے ، بی اے کرنے کے بعد ایم اے ایجوکیشن ،ایم اے اردو اور ایم اے پنجابی کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ 1997 سے اب تک اپنے گاوں بھوج پور میں ایک پرائیویٹ سکول چلا رہے ہیں ۔ آسی بھوج پوری کو شاعری کا بچپن سے ہی ہے ۔ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شعر کہتے ہیں ۔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ مگر منہّ کا ذائقہ بدلنے کے لیے دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں ۔قارئین کےلیے ان کی پنجابی حمد پیش خدمت ہے ۔
حمد (پنجابی)
کوشش ایتھے ککھ نہ کردی اے
بیڑی فضل ترے نل تردی اے
ربا ! فضل کریں توں میرے تے
عدلوں جند نمانی ڈردی اے
میداناں وچ ٹویاں ٹبیاں تے
ہر تھاں تیری رحمت ورھدی اے
چڑی جناور ، پربت ، چشمے ، رُکھ
ہر شے تیرا ای دم بھردی اے
راضی ہوویں جس تے مولا توں
توصیف اوہدے مونہوں سردی اے
غیراں تے نئیں تکیہ آسی دا
اکو آس ترے ای در دی اے
حضور خاتم المرسلین ، راحت دل عاشقین، شفیع المذنبین، رحمتہ اللعالمین، شافع روز جزا آقائے سرور کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان اقدس میں آسی بھوج پوری کی پنجابی نعت شریف ملاحظہ فرمائیں ۔
نعت شریف
کیویں تیری صفت سناواں
کِتھوں ایڈے لفظ لیاواں
امتی ہون دے ناطے آقا ﷺ
لکھ سلاماں روز پہچاواں
مدنی ﷺ میرے راہ وچ تیرے
اکھاں پیراں ہیٹھ وچھاواں
پیر ترے دی لے کے مٹی
اکھیاں دے وچ سرمہ پاواں
گھر وچ آوے احمد ﷺ میرے
پُھلاں دی میں سیج سجاواں
صدقے اپنی آل دے آقا ﷺ
سُن لے میریاں درد صداواں
تیرے باجھوں کون سنے دا
میرے دُکھی دل دیاں ہاواں
آسی بھوج پوری کی شاعری میں الفت چاہت اور اخوت کا رنگ نمایاں ملتا ہے ۔ وہ اپنی شاعری میں انسانیت کو جوڑنے کا درس دیتے ہیں ۔ وہ معاشرے میں اخوت بھائی چارے کو پروان چڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ اپنے آس پاس ہر طرف محبت اور ھمدردی احساس کے باغیچے کھلے نظر آنے کے خواہاں ہیں۔ ان کی ایک غزل پیش خدمت ہے ۔
غزل
جاؤں بھول ارادہ تھا
میں بھی کتنا سادہ تھا
جوڑے ہاتھ کھڑی تھی وہ
پاؤں پکڑے جادہ تھا
ہجر کی شب تھی اور ہم تھے
اس کی یاد تھی، بادہ تھا
آیا جو بھی سما گیا وہ
اپنا قلب کشادہ تھا
آسی اس کے قیافے سے
تیرا درد زیادہ تھا
آسی بھوج پوری دلوں میں بسنے کی آرزو رکھتے ہیں ۔ خوشبووں کے ساتھ محو گفتگو بھی رہتے ہیں ۔ محبت و پیار کے سفر میں آنے والی مشکلات و صدمات کو بھی اپنی شاعری میں پیش کرتے ہیں ۔وہ پیار کی راہ میں جان کی بازی لگانے سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔ ان کی ایک اردو غزل پڑھیے اور شاعری کا لطف اٹھاٸیں ۔
غزل
تم سے اور نہیں کچھ کہنا
یاد مجھے بس کرتے رہنا
عشق ترے کی مالا پائی
نام ترے کا گجرا پہنا
خوشبو بن کے دل میں اترنا
آنسو بن کے آنکھ سے بہنا
سپنے وصل کے تکتے تکتے
ہجر کا صدمہ پڑ گیا سہنا
جا سکتی ہے جان بھی آسی
پیار میں اس کے پھر ناں کہنا
کائنات میں محبت ایک لافانی جذبہ ہے ۔ جس کے دم سے جہاں میں ہر سو تازگی ہے ۔ وہ محبت کا ہی اثر ہے کہ جس سے پرندوں کی چہچہاہٹ ،بہتے چشموں کا سرگم ، چمن میں کلیوں کی مسکان اس جہان کی رونقوں کو دوبالا کر رہی ہیں۔ محبت اس جہان میں بہت بڑا سچ ہے ۔ اسی محبت کا تذکرہ آسی بھوج پوری کی شاعری میں ملتا ہے ۔ غزل کا لطف لیجیے ۔
غزل
تم سے پیار دوبارا کرتے
ہم کیسے یہ گوارا کرتے
کیا ہوتا جو تم بھی ساجن
پوچھا حال ہمارا کرتے
خوابوں میں تم آتے رہتے
ہم دیدار تمھارا کرتے
درد مرے کا درماں بھی تھا
گر چارہ گر چارا کرتے
کرتے خوب کمائی آسی
بہتر آج گزارا کرتے
انسانی محسوسات کا اظہار ذریعہ شاعری ہے۔آسی بھوج پوری نے دل کی بات کے اظہار کے لیے اس فن کو بخوبی ذریعہ بنایا ہے ۔ محبت جیسے لطیف جذبے میں ہجر و وصال کے احساسات کا اظہار بھی کیا ہے ۔
غزل
آ گئے تم کبھی گر مرے روبرو
ساجنا ! تو ہو گی گفتگو دوبدو
چھوڑ کر تم مجھے ہو کہاں جا بسے
ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تجھے کو بکو
کون ہے جو کھڑی ہے کڑی دھوپ میں
اُس کی سی خوبرو نار اک ہو بہو
ضد نہ کر اب یہاں کہہ دوں گا سب وہاں
صرف ہوں گے جہاں ایک میں اور تُو
پیار تم کرنا آسی ذرا سوچ کے
خوب کرتے ہیں بدنام یہ خوبرو
آسی بھوج پوری کا اسلوب بیان سادہ اورعام فہم ہے یہی ان کی انفرادیت ہے ۔ ان کے دل کی باتیں شاعری کا روپ دھار کر ہمارے سامنے آتی ہیں ۔ ان کی شاعری پڑھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ آسی بھوج پوری نے میرے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے شاعری کی ہے ۔ پنجابی غزل ملاحظہ کیجیے ۔
غزل (پنجابی)
بوہتی گزر گئی اے تھوڑی رہ گئی اے
جندڑی ہولے ہولے مغروں لہہ گئی اے
اوہدی طرفوں جو وی سختی آئی اے
جند کوڑا گھٹ کر کے اوہنوں سہہ گئی اے
غلطی اکھیاں دی تے بھل جوانی دی
میرے گٹیاں گوڈیاں دے وچ بہہ گئی اے
مونہوں جادو گرنی بھاویں بولی نئیں
اکھاں اکھاں وچ ای سبھ کجھ کہہ گئی اے
تیرا ناں وی لینا جو چاہندی نئیں سی
آسی! لوڑ تری اج اوہنوں پئے گئی اے