حلقہء ارباب ادب پاکستان ملٹری اکاونٹس جس کی بنیاد شاعر درویش بشیر رحمانی اور استاد الشعراء علامہ بشیر رزمی نے برسوں پہلے رکھی تھی۔ آج اس کا نیا جنم ہوا ہے اور طویل تعطل کے بعد اس کی ادبی رونقیں لوٹ آئی ہیں۔ اس حلقے کے زیر انتظام بیاد بشیر رحمانی پروگرام، ادارے کی پہچان، معروف شاعر اور بچوں کے ادیب محمد نوید مرزا کی دو کتب، دھیان ٹوٹتا ہے اور گمشدہ کہانیاں کی تقریب اور شعری نشست کا ایک ساتھ انعقاد حلقہ کے نئے عہدیداروں اور کی دن رات کی محنت کا صلہ ہے۔ اس خوب صورت تقریب کی صدارت معروف شاعر اور نقاد جناب ڈاکٹر سعادت سعید نے کی۔ پہلے سیشن کی نظامت جناب محمد نوید مرزا نے کی۔ جس میں بیاد بشیر رحمانی کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ نوید مرزا نے حلقہ کے تعارف کے علاوہ شاعر درویش کی ادبی خدمات اور محکمانہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ جناب امجد علی نے بشیر رحمانی کی غزلیں پڑھ کر داد وصول کی۔ دوسرے سیشن میں نوید مرزا کی کتابوں پر جناب امجد علی، جناب عمار یاسر مگسی، جناب محمد اعظم یاد اور جناب علی سانول نے بھرپور اظہار خیال کیا اور نوید مرزا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انھیں بھر پور خراج تحسین پیش کیا۔ اس سیشن کی نظامت جناب محمد شہزاد نے کی۔ تیسرا سیشن شعری نشست کی صورت منعقد ہوا، جس کی نظامت علی سانول نے کی۔ دیگر شعراء میں جناب قاسم مقصود، جناب ذیشان ہاتف، جناب تنویر احمد، جناب خادم حسین مجاھد، جناب عمار یاسر مگسی، جناب محمد نوید مرزا اور صاحب صدر ڈاکٹر سعادت سعید کے نام شامل ہیں۔ اس موقع پر صاحب صدر ڈاکٹر سعادت سعید نے بشیر رحمانی کی یادیں تازہ کیں اور نوید مرزا کی شعری و نثری کاوشوں کو سراہا۔ آخر میں مہمانان کی تواضح چائے اور دیگر لوازمات سے کی گئی، جس کے بعدجناب محمد نوید مرزا کو حلقہ کا صدر، جناب امجد علی کو نائب صدر، جناب عمار یاسر مگسی کو جنرل سیکرٹری، جناب علی سانول کو جوائنٹ سیکرٹری، جناب وقاص نصر اللہ کو پریس سیکرٹری اور معاونت کے لئے اسد اللہ کو خزانچی مقرر کیا گیا۔ جبکہ جناب فضیل احمد، جناب شفیق احمد اور جناب نور ندیم کو مجلس مشاورت میں شامل کیا گیا۔ یہ ایک شاندار تقریب تھی جس میں معروف شاعر محمد نوید مرزا کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔